دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh


Related Articles

عافیت کہاں ہے؟

ستیہ پال آنند:آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں

نزار قبانی کی رومانی شاعری

نزار قبانی: جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں