دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh


Related Articles

دراز دَستوں کی سلطنت ہے

نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟

تین نظمیں تین خاکے

ادارتی نوٹ:فہیم عباس بصری اور تحریری فنون میں صنف اور روایت کے قائل نہیں۔

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

جمیل الرحمان: سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟