ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

من کی ملکہ

شہناز شورو: ملکہ کا ذِکر اب شہر بھرکا موضوع تھا۔۔۔ ہر شخص کے پاس اپنا ہی ترازو تھا۔۔۔ اور ملکہ کے گناہوں کا پلڑا۔۔۔ بلاشبہ ہر جا، بھاری تھا

ہم جماعت سے

کہ تیری خوش گمانی پر
کبھی پورا نہیں اُترا

Political Fantasy of Lahore's Suburbs – A Poem

Political Fantasy of Lahore's Suburbs He was sitting outside his shop On Aadil Chowk Like an Aadil would Actually in