ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے "آج" کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649


تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔

خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔

اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘

’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔

’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔

’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔

ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔

اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔

میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘

’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘

’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘

’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔

ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔

زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔

مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔

پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔

ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔

جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔

ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔

’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔

’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔

آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔

وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔

یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘

’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘

ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔

’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔

میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔

’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔

ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔

آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔

تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔

’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔

’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘

غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔

’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔

کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘

اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔

’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘

میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔

Image: Muhammad Hafez

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
آج

آج

سہ ماہی "آج" کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔


Related Articles

خاموش خدا

اشفاق آذر: میرے خاموش خدا کو کہنا !
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟

ولدیت کا خانہ

ناصر عباس نیر: اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔

Smoke

Maida Aslam Haji Habib was driving on in silence with his wife sitting beside him. The spatter of rain falling