ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں
سرد رُتوں کی سائیں سائیں
روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی
آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس
مُٹھی بھر ہمدردی
بھوگ رہا ہوں
بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا
کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو
ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی
کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی
ایک عدد حیرانی
شکلیں بدل بدل کے آتے غم کے گھاؤ
کِس کے ہمراہ اکلاپے کی شام مناؤں
ایک پرانی یاد کی تلچھٹ باقی رہ گئی
باقی رہ گئے تم
وہ بھی یہاں کہاں ہو؟
باقی رہ گیا میں
میں بھی کہیں نہیں ہوں
بھوگ رہا ہوں
کب سے اپنے نہ ہونے کو
مٹی ہوتے دیکھ رہا ہوں
میں سونے کو
Images: cristine cambrea


Related Articles

ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

حسین عابد: کسی سڈول خیال کو
محبوبہ نہیں ملتی
حاسد بھول بھلیاں اسے
جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں

ایک معمول کا دن

حفیظ تبسم: آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی