حادثہ (شیراز علی)

حادثہ (شیراز علی)

مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے
میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے
یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے

یہ گردش زمانے کی اٹکی ہے تب سے کہ جب سے تو سورج کے آگے سے گزری
یہ دن ماہ برس کو بھی بدلے ہوئے ایک عرصہ ہوا ہے
یہ موسم بھی تھکنے لگا ہے کہ اس کے بدلنے کی ساری کی ساری ہی ترکیب بالکل الٹ ہو گئی ہے
یوں ہر ایک تھیوری غلط ہو گئی ہے

مشینوں کے اندر بھی اک کھلبلی ہے
مرا فون ہر دس منٹ بعد مجھ کو یہ اک منفرد سی نئی دھن بجا کر بتاتا یہی ہے کہ تم جا چکی ہو
مجھے یاد ہے ایک بجنے میں بارہ منٹ تھے کہ جب تم نگاہوں سے اوجھل ہوئی تھی
سو اب بھی وہیں پر ہے سوئی گھڑی کی
یہ اب تیرے آنے سے آگے چلے گی

لہو گردشوں میں رکا ہے یوں جیسے کسی نے ہمیں منجمد کر دیا ہو
مگر اس سے پہلے کہ خلیے بدن کے، لہو کی کمی سے ہوں نیکروز سارے
مجھے بڑھ کے چھو لو
ہاں میرے بدن سے بدن کو ملاؤ
مری سرکولیشن کو پھر سے چلاؤ

مجھے سانس لینے میں دقت بڑی ہے
مگر وینٹی لیٹر سے کچھ نہ بنے گا کہ یہ آکسیجن کے باعث نہیں ہے
ہاں اس کی وجہ صرف تیری کمی ہے

ادھر صرف میں ہی نہیں کشمکش میں
کئی لوگ ہیں جو اسی بے بسی کی وجہ سے مسلسل
گنوانے لگے ہیں طلب زندگی کی
ترے فیصلے نے ہے ڈھائی قیامت
سبھی کے سکوں کو تباہ کر دیا ہے
میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے
یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے
Image: Edward Munch
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھیوری Theory
نیکروز Necrose
سرکولیشن Circulation
وینٹی لیٹر Ventilator
آکسیجن Oxygen


Related Articles

شہدائے پاراچنار کے لیے ایک نظم

(مشتاق علی بنگش، پاراچنار)       تشنہ لب ، ضعفِ دست و پا لے کر جس فریضے نے شل

میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا

بیٹھے بٹھائے
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں

اشتہار سے باہر

علی محمد فرشی: رشتوں کی سلاخوں میں
پروئی عورتوں اور
گائے کے عمدہ گلابی گو شت کا بھاؤ
ابھی تک ایک جیسا ہے