اسے ہماری شرافت نے جو پالا ہے (ایچ-بی-بلوچ)

اسے ہماری شرافت نے جو پالا ہے (ایچ-بی-بلوچ)

اس دنیا میں
شاید امن کا کوئی خط نہیں
کیونکہ یہ دنیا
چاند یا مریخ جیسا کوئی
بانجھ گرہ یا اپگرہ نہیں

دنیا کو
اس کونے سے کھینچ کر
اس کونے تک لایا جا سکتا ہے
انسان کے لنگڑے ڈی این اے کا علاج نہیں کیا جا سکتا

یہ ہر دوسرے واقعے کے بعد
اک سانحہ گھڑ دے گا
یہ ہر تھوڑے عرصے بعد
ہماری بستیوں تک اچھلتا لپکتا رہے گا
جہاں ہمارے سکھ چین دفن ہیں

اس دنیا میں
شاید امن کا کوئی خط نہیں
کیونکہ یہ دنیا
شعور اور محنت کے ستونوں کی بجائے
قصوں کہانیوں کے خط استوا پر واقع ہے

دنیا کو لپیٹ کر جیب میں ڈالا جا سکتا ہے
انسان کی انتڑیوں کو ناپا نہیں جا سکتا

یہ ہر تھوڑے عرصے بعد
ہمارے ریوڑوں میں گھستا رہے گا
یہ وہ ذخیرہ اندوز
حوسی اناج خور

جسے عورت کی ماہواری کی طرح
ہر مہینے وحشت کے دورے پڑتے ہیں
یہ ہر قطار میں
گھس پڑتا ہے
اسے ہماری شرافت نے جو پالا ہے.


Related Articles

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟

آنسوؤں کی سیڑھی

مصطفیٰ ارباب: میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے

کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے