جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
ماں کی نظروں سے مجبور
اٹھا کر نہیں کھائے گی
آپ کے ہاتھوں سے گرے
چپس کے ٹکڑے

پیار کرتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
عزت سے مجبور
آپ کے تقاضوں پر
چھوڑ دے گی آپ کو
ہمیشہ کے لیے

اچھی بیوی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
بچوں سے مجبور
چھین لے گی واپس آپ سے
اپنے چرائے ہوئے پیسے

دعائیں دیتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
خودداری سے مجبور
چلی جائے گی
آپ کے گھر سے
فٹ پاتھوں پر رہنے

ٹھیک لگتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
کمر درد سے مجبور
اٹھا کر دے دیجئے
زمین پر پڑے
بھیک کے پیسے

Tanveer Anjum

Tanveer Anjum

تنویرانجم اُردو نثری نظم کا نمایاں نام ہیں۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ تنویر انجم نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا اور شعبہٗ تدریس سے وابستہ ہیں۔


Related Articles

شناخت نامہ

لکھو
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات

آ چنو رل یار

افتخار بخاری: آؤ اب ہم پتھر ڈھونڈیں
اپنے پیٹ پہ باندھنے کو

لمس جھوٹا نہیں

عارفہ شہزاد: وہ تھل کی ریت اڑاتا ہے
تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*