کون بتائے گا

کون بتائے گا

وائلن کے تاروں کی چیخ میں
کتنے سینٹی گریڈ وحشت تھی
خزانی ہوائیں چلیں تو
پتے پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں
اور محبت کو اجنبی راہ میں خالی بنچ پہ
چھوڑ کے جانے والے نے ہمت
کہاں سے مستعار لی
کون بتائے گا؟

آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے
اور جانے والا پرائی دھوپ میں
اپنا بدن کیوں سینکتا رہا
کون بتائے گا؟

وہ۔۔۔۔۔ جسے معلوم ہے کہ
رسے کی کمزوری کے باعث
خود کشی پہ آمادہ لڑکی کی
داھنی ٹانگ کیوں ٹوٹی
یا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنی خود کشی موخر کر کے
زہر میں ملاوٹ کے خلاف
سارا دن احتجاج کرتا رہا
Image: Matthew Li

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

روح زیست کے ٹرائل روم میں کھڑی ہے

سوئپنل تیواری: روح کھڑی ہے
جسم پہن کر
زیست کے ٹرائل روم پھر سے
عمر کے آئینے میں خود کو دیکھ رہی ہے

گونگے لفظ چبانے والو

سلمان حیدر: پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

دراز دَستوں کی سلطنت ہے

نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟