خلا میں لڑھکتی زمین

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
خلا
اپنی برفاب وسعتوں میں
زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے
سفر
زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا
خواب میں ڈھل رہا ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
ہوا
اپنی سانسوں کے بارود میں
خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

سمندر کی خوں خوار لہریں
سفر در سفر خوف پہنے ہوئے
بھاگتی جا رہی ہیں
کبھی چاند کے
اور کبھی
سورج کے جلتے ہوئے جسموں کو پی کے
کئی رنگ پھیلا رہی ہیں
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں

رات کے یتیم بچے

گھڑی کی ہچکیوں میں

عمر قید

رضوان علی: مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں