خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

"The Second Unreal"

What is hidden under the deep waters of the lake
from which our newly bathed souls will emerge
singing a duet
hitherto forbidden
by the gods

جنازے کا کرب

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو

یورینیم کے خواب

رضی حیدر: بدھا کے لاشے پے بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا