میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں
ساڑھی پہن کر
سندھی بولتی ہوں
تم لوگ جو جنگ کرو گے
تو میں کہاں جاؤں گی؟
میرابچہ جو آج بھی
نانا کی جنم بھومی کا
طعنہ سہتا ہے
کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟
یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب
ہجرت کریں گے؟
تم جو جنگ کرو گے


Related Articles

ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

کائناتی گرد میں عریاں شام

اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے "موازنہ٫ انیس و دبیر" سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔

بھوک کی کئی قسمیں ہیں

قاسم یعقوب: میں آج بہت بھوکا ہوں
میرے دل، ذہن اور جسم کے سارے خالی رستوں پر
بے سمت چلنے والے قافلوں کی دھول اڑ رہی ہے