میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں
ساڑھی پہن کر
سندھی بولتی ہوں
تم لوگ جو جنگ کرو گے
تو میں کہاں جاؤں گی؟
میرابچہ جو آج بھی
نانا کی جنم بھومی کا
طعنہ سہتا ہے
کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟
یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب
ہجرت کریں گے؟
تم جو جنگ کرو گے


Related Articles

نظم (تصنیف حیدر)

تصنیف حیدر: خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

نصیر احمد ناصر: اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے

موضوع کی تلاش میں ایک ہیرو سوچ

خیال آسمانی جانور ہے
مگر ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ
کسی نالی میں تیرتا ہوا کیڑا ہے
جسے دیکھ کر گھر والوں کا