میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور
شکلیں بدل بدل کر
مجھ سے مت پوچھو
کہ میں کون ہوں

میں محنت اور اطاعت کا
کالا رنگ ہوں
جس سے تم نے
نسلی تعصب گھڑ ڈالا

میں گول چکرا ہوں
جس سے
موہن جو دڑو کے باسیوں نے پہیہ بنایا
اور جس سے تم نے
دار کی چرخیاں بنا ڈالیں

میں کنور رام کی آواز ہوں
جس سے تم نے سائرن بنا لیے

میں محبت ہوں
جس سے تم نے شیطان بنا ڈالا
میں طلب ہوں
جس سے تم نے دیوتا بنا لیے

میں خوف ہوں
آج کل تم جس سے
انسان بنانے کے چکر میں ہو!


Related Articles

سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب

نصیر احمد ناصر:آبائی راستوں سے گزرتے ہوئے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے

ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں

جنرل وارڈ الباکستان کا خواب

وارڈ کے اندر
بہت سے جسم کراہتے ہوئے