میرا سایہ

میرا سایہ

میرا سایہ اب سورج کے عکس کے ساتھ
زمین پر نہیں گرتا
میرا نام لے کر
مجھے کوئی نہیں پکارتا
کھانا تقسیم ہوتے ہوئے
میرے حصے کی پلیٹ
میرے آگے نہیں رکھی جاتی
شور میں
میری آواز سنائی نہیں دیتی
جب جرم ہوتا ہے
ملزموں کی فہرست میں
میرا نام نہیں لکھا جاتا
کوئی دعوت نامہ
میرے نام نہیں آتا
قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں میں
مجھے شمار نہیں کیا جاتا
میری چاپ
کسی کو سنائی نہیں دیتی
لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

تمہاری گھٹن، تمہارے اندھیرے کے نام

کائنات کی بستی میں لائٹ گئی ہوی ہے
ہم ایک دوسرے کو
آوازیں پہچان کر بلا رہے ہیں
خیریت معلوم کر رہے ہیں
زندگی
خوفناک حد تک
ڈری ہوئی ہے

کلیشے

چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے

کھرے عشق کا المیہ

شارق کیفی: محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے