میرا سایہ

میرا سایہ

میرا سایہ اب سورج کے عکس کے ساتھ
زمین پر نہیں گرتا
میرا نام لے کر
مجھے کوئی نہیں پکارتا
کھانا تقسیم ہوتے ہوئے
میرے حصے کی پلیٹ
میرے آگے نہیں رکھی جاتی
شور میں
میری آواز سنائی نہیں دیتی
جب جرم ہوتا ہے
ملزموں کی فہرست میں
میرا نام نہیں لکھا جاتا
کوئی دعوت نامہ
میرے نام نہیں آتا
قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں میں
مجھے شمار نہیں کیا جاتا
میری چاپ
کسی کو سنائی نہیں دیتی
لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی