محبت کا سن یاس

محبت کا سن یاس

وہ مجھے اپنی تصویریں بھیجتی ہے
اور مجھ سے میری نظموں کی توقع رکھتی ہے
میں نے لفظوں کا پھوک
اخباروں سے چن کر
لیکچروں کے بیچ ٹھونگتے رہنے کے لیے
اپنی جیبوں میں بھر رکھا ہے
ان لفظوں سے نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں

اخبار جن چٹپٹے لفظوں سے بھرے ہوتے ہیں
وہ چائے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں
نظم صرف سگریٹ کے ساتھ لکھی جا سکتی ہے
تصویر صرف کسیلے پانی کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے
میں اپنی لائف انشورنس کا پریمیم کم کرنے کے لیے
سگریٹ چھوڑ چکا ہوں
کسیلے پانی پر خدا کا پہرہ ہے
اور اخبار میں لکھے لفظ صرف ری سائیکلنگ کے لیے بھیجے جانے کے قابل ہیں

لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
میں نے ان میں لکھی دعائیں رٹ ڈالیں
لیکن خدا کے کانوں میں ریشہ اتر آیا تھا
میں نے لفظوں کی تلاش میں ڈکشنریاں کھود ڈالیں
لیکن لفظ دب کر مر چکے تھے
میں نے ان مرے ہوئے لفظوں کو جوڑ کر گالیاں بنائی
لیکن کسی کو غصہ نہیں آیا
جن لفظوں پر کسی کو غصہ نہیں آتا
ان پر پیار آنے کی توقع بے سود ہے

ہم جیسے مردوں کو پیار کرنے کے لیے عورتیں درکار ہیں
اور غصہ کرنے کے لیے بھی
ہمیں نظمیں لکھنے کو عورتیں چاہئیں
اور گالیاں دینے کو بھی
ہم بچے پیدا کرنے کے لیے ان کے محتاج ہیں
اور لفظ جننے کے لیے بھی
خدا جانے تمہاری تصویر محبت کرنے کے لیے بوڑھی ہو چکی ہے
یا میں نظمیں جننے کے لیے نامرد۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salman Haider

Salman Haider

The author is working as Urdu Editor at Tanqeed. He is a visiting Scholar at University of Texas at Auston and a Blog Writer at Dawn Urdu. He has a profound interest in theater, drama and culture.


Related Articles

پتھر پر لکیر

کومل راجہ: تم مجھ پر حرفِ آخر کی طرح نازل ہوئے ہو

کروں کیا

ابرار احمد: تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے

"The Second Unreal"

What is hidden under the deep waters of the lake
from which our newly bathed souls will emerge
singing a duet
hitherto forbidden
by the gods