نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار!
تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں
اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں
ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے
میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا
اداسی بہت دبیز تھی
مگر میں جانتا ہوں
کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے
آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی ہیں
تمہیں دریا بنے بغیر سمندر سے ملنا آتا ہے
تو پھر مان لو
اَن بہے آنسو بھی عظیم ہو سکتے ہیں
دکھ کسی ایک کا نہیں ہوتا
دکھ تو سب کے ہوتے ہیں
لیکن یقین اور اظہار کے درمیان آنکھوں میں
ایک نمی سی تیرتی رہتی ہے
بارشیں پرائی سرزمینوں پر برسنا چاہتی ہوں
تو انہیں کون روک سکتا ہے
اعتراف کے بغیر سب رشتے بے یقین رہتے ہیں
اگر لفظوں کے بغیر کچھ لکھا جا سکتا
تو مَیں تمہارے لیے بھی ایک نظم لکھتا

کہانی کار!
جب تمہاری آنکھوں کے آسمان میں
آنسوؤں کی روشنائی سوکھ جائے
اور بدن کی زمین کا ملبوس بوڑھا ہونے لگے
اور تم کسی اور وجود کا چولا بدلنے کے لیے
اگلی بار آؤ
تو اپنی کہانی لکھتے ہوئے
ایک کردار میرے نام سے ضرور لکھنا
کیونکہ اگلی بار میں نہیں ہوں گا
میں تو پچھلی بار بھی نہیں تھا
اور اِس بار بھی نہیں ہوں
لیکن تمہیں خواب لکھنے کا تجربہ نہیں
تم نے صرف تعبیریں دیکھی ہیں
کہانی کار!
تم نے ابھی نظم نہیں لکھی!!

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو

کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*