پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔

کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔

خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔

’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔

یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔

اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔

ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔

مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔

اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔

رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔

اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔

چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘

’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔

نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔

گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔

سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔

ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔

جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔

میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔

اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔

وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔

جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔

میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔

چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔

دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔

میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔

دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔

’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔

عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔

شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘

میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔
Image: Mehwish Iqbal


Related Articles

گنیش

پاروتی کو سب سے پہلے ہاتھی دکھائی دیا۔ چنانچہ اسی کا سر کاٹ کر گنیش جی کے لگادیا گیا۔

بختک /کابوس

وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔

محبت کی گیارہ کہانیاں (چھٹی کہانی)

تصنیف حیدر: ہر بار سمندر کی جو لہر آتی، میں اس پر کود کر کسی جنگلی بھوکے اژدہے کی طرح حملہ کرتی اور پھر اس کے زور سے بہت دور تک کھلکھلا کر واپس پلٹتی ہوئی آتی۔

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*