آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں
کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں

خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا
یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں

نجانے کتنی مسافت پہ وہ مقام آئے
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جلوہ گر دیکھوں


Related Articles

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا

آج کا گیت: لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے (اقبال بانو)

کلام: محمد ابراہیم ذوق آواز: اقبال بانو لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی

آج کا گیت: تنہائی کے سب دن ہیں (قاری وحید ظفر قاسمی)

کلام: محمد علی جوہر نعت خواں: قاری وحید ظفر قاسمی تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں اب