آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں
کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں

خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا
یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں

نجانے کتنی مسافت پہ وہ مقام آئے
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جلوہ گر دیکھوں


Related Articles

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا

آج کا گیت: آج تجھے کیوں چُپ سی لگی ہے (ناصر کاظمی، اسد امانت علی خان)

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے آج تو جیسے ساری دنیا ہم

آج کا گیت: کون اس راہ سے گزرتا ہے (ناصر کاظمی، مہدی حسن)

کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یوں ہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے