صلیب (مشرف علی زیدی)

صلیب (مشرف علی زیدی)

حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا تھا۔
جھوٹوں کے شہر میں ایک باغی نے سچ بولنے کا اعلان کیا تھا۔
ہنگامی صورت حال میں فوج کو طلب کیا گیا۔
چپ راست چپ راست کرتے ہوئے دستے پہنچ گئے۔
انجینئرنگ کور کے کمانڈر کو ذمے داری سونپی گئی۔
فوجیوں نے کلہاڑیاں آرے چلا کر کئی درخت کاٹ ڈالے۔
پھر بڑے ٹکڑوں کو جوڑ کر صلیب تیار کی۔
“یہ صلیب کہاں نصب کریں گے؟”
میں نے پوچھا۔
“قاضی کی عدالت کے سامنے۔”
کمانڈر نے جواب دیا۔
“اور صلیب پر کس کو چڑھائیں گے؟”
میں نے سوال کیا۔
کمانڈر نے بتایا،
“عیسیٰ کو!”


Related Articles

سائن بورڈ اور دوسری کہانیاں

جنید الدین: آپ کتاب کو بند کر کے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یا تو سو جاتے ہیں یا ماں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گی جسے سن کے آپ ہنسنے لگیں گے اور سوچیں گے وہ کتنی معصوم ہے۔

مظہر حسین سید کی دو کہانیاں

مظہر حسین سید: گولی پیٹ کو چیرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ شدید درد اور جلن کے احساس کے ساتھ معلوم نہیں وہ کتنے منٹ تک سرپٹ بھاگتا رہا اندھا دھند جھاڑیوں اور درختوں سے ٹکراتے ہوئے وہ مزید زخمی ہو چکا تھا ۔ اُس کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے وہ بے دم ہو کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

محمد جمیل اختر: اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*