سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

by Uzma Toor | جون 6, 2019 9:32 شام

میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں
کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں
مگر ٹوٹ چکی ہیں
اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت کہاں ہے
میں اس سماعت کے مفلوج ہونے کی بھی گواہ ہوں
جو گفتار کو اپاہج سمجھ کر
خود اپنی ہی سناٹوں میں گونجتی اپنی آوازوں سے محظوظ ہونے کی عادی ہے
میں جانتی ہوں اس دکھ کو
جو میرا ہے
اور صرف میرا ہے
جہاں سماعتوں کے اندھیروں سے جوجتے کئی ہیں
جن کے *ہاتھ بولتے ہیں
میں ان اندھیروں کی قسم کھاتی ہوں
میرے پیارو !
اس دنیا کو سننا اتنا بھی آسان نہیں تھا
سو تم تسلی رکھو
اس اذیت کو سنبھل کر جھیل لو
یہ اپنی آوازیں سننے کی عادی سماعتوں کی دنیا ہے
تم تسلی رکھو کہ تم
کم از کم اپاہج نہیں ہو __!

*sign language

Source URL: http://www.laaltain.com/samaton-k-andheray/