شریف (تالیف حیدر)

شریف (تالیف حیدر)

رات ساڑھے گیارہ کے قریب شریف نے دارالقلم کے آہنی دروازے پر تالا لگایا، اور اپنے کمرے میں جو مدرسے کے مین گیٹ سے متصل تھا سونے چلا گیا۔روز انہ تقریباً اسی وقت وہ گیٹ مقفل کرتا تھا، لیکن کبھی کبھی اسے بارہ، ساڑھے بارہ بجے دوبارا گیٹ کھولنا پڑتا۔ جب حضرت کے ملاقاتی لوٹنے لگتے۔شریف کے دورازے پر دو تین ہتّڑ لگاؤ تو اندر سے اپنی نیم غنودہ آواز میں شریف جواب دیتا اور اگلے تین، چار سیکنڈ بعد دروازہ کھول کر اپنی لنگی درست کرتے ہوئے مین گیٹ کے تالے کی طرف بڑھ جاتا۔ اسے پتہ تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ بنا کسی رسمی گفتگو کے وہ دروازہ کھولتا، ملاقاتیوں کو باہر نکالتا اور دروازہ بند کر کے دوبارہ اپنے کمرے میں چلا جاتا۔

شریف کا کمرہ حضرت جی کے کمرے سے زیادہ کشادہ تھا، لیکن اس کمرے میں شریف کو اپنے پلنگ کے علاوہ جو غالباً پلنگ نہیں تخت تھا جس پر ایک دو انچ روئی سے بھرا گدا اور اس پر ایک میلی سی چادر پڑی رہتی تھی، کسی چیزسے علاقہ نہیں تھا۔شریف اور حضرت جی کے کمروں میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا سوائے اس کے کہ حضرت جی کے کمرے میں لیٹرین، باتھ روم اٹیج تھا اور شریف کو اپنی حاجت رفع کرنے کے لئے اسی لیٹرین، باتھ روم کا استعمال کرنا پڑتا تھا جس میں مدرسے کے دیگر طلبہ،اساتذہ اور خانسامہ جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت جی کے کمرے میں جتنی کتابیں تھیں شریف کے کمرے میں بھی اتنی ہی کتابیں موجود تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ حضرت جی نے دنیا جہان کے مصنفین کی کتابیں اپنے کمرے میں جمع کررکھی تھیں اور شریف کے کمرے میں اُن کتابوں کا ڈھیر تھاجنہیں حضرت جی نے دنیا جہان کے مصنفین کی کتابوں سے استفادہ کر کے ترتیب دیا تھا۔ وہ اپنی مرتب شدہ کتب کی دو دو تین تین سو کاپیاں شریف کے کمرے میں رکھوا دیا کرتے تھے اور شریف جو حضرت جی کو شاید دنیا کا سب سے بڑا پڑھاکو سمجھتا تھا۔ وہ بہت عقیدت سے ان کتابوں کو ایک کونے میں سجا دیتا، اس کی عقیدت صرف کتابوں کو حضرت جی کے کمرے سے جو ٹھیک اس کے کمرے کے اوپر والی منزل پر موجود تھا، اٹھا کر اپنے کمرے میں لانے تک محدود تھی، شریف نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کتابوں میں حضرت جی کس دنیا کا ذکر کرتے ہیں اور اس مدرسے کی باہری دنیا ان کتابوں کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ اسے تو صرف اتنا پتہ تھا کہ حضرت جی جس کالی سیاہی کا استعمال کرتے ہیں اُسے استعمال کرنے کی صلاحیت اُس میں نہیں تھی اور اس عدم صلاحیت کے باوجود بھی اسے حضرت جی کا قرب حاصل تھا۔

شریف کی عمر حضرت جی کی عمر سے کچھ ہی زیادہ تھی اور حضرت جی، بقول خود’’ غلام ہندوستان میں اعظم گڑھ کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔‘‘شریف ان کے ساتھ کب سے ہے؟ اس کا علم بہت کم لوگوں کو تھا، لیکن دارالقلم کے کچھ اساتذہ کی روایت کے مطابق مدرسے کے وجود میں آنے کے بعد جو ملازمین حضرت جی کی خدمت کے فرائض انجام دینے کی غرض سے حاضر ہوئے تھی حضرت جی نے ان میں سے شریف کا انتخاب کیا تھا۔ اس بات کو بھی بائیس،تیئس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔اور! شریف آج بھی حضرت جی کی خدمت اسی طرح انجام دے ریا تھا جس طرح حضرت جی اپنے ہم مسلک لوگوں کی خدمت کر رہے تھے۔

شریف ہاتھ پاؤں سے خاصہ مضبوط تھا اور زندگی جینے کے لئے اسے جو کچھ چاہئے تھا وہ حضرت جی کی معیت میں اسے بہت آسانی سے مل رہا تھا۔اس کے آگے پیچھے سوائے حضرت جی کے کوئی نہیں تھا،صرف ایک شخص اورتھا جس پہ شریف حضرت جی کے بعد سب سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا اور جس سے وہ اکثر باتیں کیا کرتا تھا۔یہ رحیم تھا،رحیم اسی مدرسے میں اس وقت سے باروچی کے فرائض انجام دے رہا تھا جب سے شریف حضرت جی کی خدمت میں لگا تھا۔دونوں اپنے اپنے کام سے فارغ ہو کر عشa کی نماز کے بعد باورچی خانے میں محفل جماتے اور ایک دوسرے پر اپنے نظریات کا بر ملا اظہار کرتے۔رحیم کو شریف کی ایک بات سے بہت چڑ تھی کہ’’ شریف دکھتا بہت عجیب تھا۔‘‘ وہ اکثر شریف سے اس بات کا اظہار بھی کر چکا تھا، لیکن!شریف نے کبھی اس بات کا برا نہیں مانا۔ شریف کے چہرے کی بناوٹ اس عمر میں آ کر اس کے اپنے اعمال سے مشابہ ہو گئی تھی۔ پھر بھی اسے یاد تھا کہ جس زمانے میں وہ اپنے گاؤں کے تالاب سے نہا کر لوٹ رہا ہوتا تھا تو گاؤں کی دو ایک لڑکیاI اور کئی عورتیں اس کے جسمانی خد و خال کا بغور جائزہ لیتی تھی۔ شریف نے کبھی ان کی طرف نہ دیکھا اور آج بھی اسے اپنے اُس عمل پہ کسی طرح کا افسوس نہیں تھا۔ اول تو شریف کو خود عورتوں سے بہت زیادہ لگاو کبھی نہیں رہا تھا اور حضرت جی کی صحبت سے اسے جو شفقت اور محبت حاصل ہوئی تھی اس نے شریف کی بچی کچی جنسی صلاحیتوں کو بھی بالکل ناکارا بنا دیا تھا۔ ادھر جب سے حضر جی ایک بڑی بیماری سے جنگ کر کے صحیح سلامت لوٹے تھے تب سے شریف کی مصروفیت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ حضرت جی کی تینوں وقت کی دوائیں، ان کی خوراک میں نمک مرچ کی مقدار،ان کی چائے، وقت وقت پر ان کے پیروں کی گرم پانی سے سکائی اور پھر اس پر ڈاکٹر کے تجویز کردہ مرہم سے مالش۔ شریف کو یہ تمام باتیں حیرت انگیز طور پر یاد رہتی تھیں۔ حضرت جی کی ایک عدد بیوی اور پانچ،چھ اولادیں بھی تھیں، لیکن! پھر بھی وہ بیماری کے بعد اپنا زیادہ تر وقت مدرسے ہی میں گزارتے تھے، انھیں اس بات کا علم تھا کہ جس طرح شریف ان کا خیال رکھتا ہے، ان کی بیوی اور سگی اولاد بھی ان کا دھیان نہیں رکھ سکتی۔

حضرت جی نے بیماری کے چھ مہینے بعد شریف کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا تھا،لیکن شریف کو اس بات سے زیادہ مسرت نہیں ہوئی تھی۔وہ اکثر اپنے باورچی دوست سے اس بات کا اظہار کیا کرتا تھا کہ:
’’ لوگوں کو پیسے خرچ کرنے میں کیا مزا آتا ہے؟ اور حضرت جی کو چھوڑ کر کیا پتہ مدرسے کے دوسرے استاد اپنی کمائی کہاں لے جاتے ہیں ؟میں تو اکثر یہ سوچتا ہوں کہ کھانا کھالینے کے بعد لوگ کس طرح پیسے خرچ کر دیتے ہیں ؟مجھ سے تو تمہارے بنائے ہوئے کھانے کے بعد کچھ کھایا ہی نہیں جاتا،پھر میں یہ کمائی کہاں لے جاؤں؟‘‘

شریف اپنی ساری تنخواہ حضرت جی کے پاس ہی رکھواتا تھا اور اکثر اوقات چھ چھ مہینے تک اسے تنخواہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ایک بار حضرت جی نے اسے سمجھایا بھی تھا کہ:
’’ اپنی تنخواہ میں سے اپنے لئے دو چار کپڑے ہر سال بنوالیا کرو پھر دیکھنا اپنی تنخواہ تمہیں کم لگنے لگے گی۔‘‘
شریف نے اس کے جواب میں اپنی موٹی اور بھرائی ہوئی آواز میں بہت شرماتے ہوئے حضرت جی سے کہا تھا کہ:
’’ نئے کپڑے ہمیں چبھتے ہیں۔‘‘
پھر تو حضرت جی نے بھی کچھ کہنا چھوڑ دیا۔

شریف کی داڑھی بڑھے بڑھے بلا مبالغہ سر سید سے مشابہ ہوگئی تھی۔شریف روازانہ رات کو سونے سے قبل کئی مرتبہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اور اس وقت ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر رقص کر رہی ہوتی۔ دراصل اس نے ایک مرتبہ داڑھی کی فضیلت میں اس وقت حضرت جی کو یہ کہتے سن لیا تھا جب وہ حضرت جی کی پان کی پیک سے بھرا ڈسٹبن اٹھانے ان کے کمرے میں داخل ہوا تھا کہ مسلمان کیے لیے داڑھی جنت کا پہلا زینہ ہے تب سے اس نے داڑھی کو ہاتھ لگانا ہی چھوڑ دیا تھا اور وہ بڑھتے بڑھتے آبروؔ کے شعر کے عین مطابق ہو گئی تھی۔

شریف کو حضرت جی نے جب سے اس بات کا یقین دلا دیا تھا کہ:
’’ہر شخص جو عمل کرتا ہے اسے اس کے عمل کا اجر آخرت میں ملے گا، لیکن آخرت میں انھیں لوگوں کو اپنے اعمال کا اجر ملے گا جو دنیا میں اس کے صلے کی خواہش نہیں رکھتے۔‘‘

وہ بات اس کے دل میں ایسا گھر کر گئی تھی کہ وہ حضرت جی کا ہر کام پورے خلوص سے کرتا تھا اور حضرت جی اپنے و ہ سارے کام اس سے کر والیا کرتے تھے جس کو کرتے ہوئے ان کی سگی اولاد اور بیوی کراہیت محسوس کرتے تھے۔ شریف کو ان کاموں سے کبھی گھن نہیں آئی۔اس کے بر عکس وہ ان کاموں میں ایک قسم کی روحانی خوشی محسوس کرتا تھا۔

باروچی نے جب حضرت جی کے غلیظ پیروں کی صفائی کرنے پر شریف کو ٹوکا تھا کہ :
’’تم اس کام کے لئے نہیں ہو۔پیک کا ڈبہ دھونے تک تو ٹھیک ہے، لیکن غلیظ پیروں کی دھلائی اور اس پر مر ہم کی مالش تمہارے حصے میں نہیں آنا چاہئے۔‘‘
تو اس پر شریف نے اپنے مخصوص انداز میں اسی موٹی اور بھرائی ہوئی آواز میں باورچی سے کہا کہ:
’’مجھے اس کام سے ذرابھی گھن نہیں آتی، بلکہ صفائی کے دوران مجھے سو ندھی سوندھی خوشبو آتی ہے۔‘‘
اور پھر اس نے بڑے عالمانہ انداز میں باروچی رحیم کو حضرت جی کا وہ قول سنا یا تھا جس نے زندگی کی تمام تلخیوں کو اس کے لئے قند بنا دیا تھا۔

Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

ہم رند بھی ہیں حلقہ ماتم میں اے حسین

فہیم عباس سیاہی سے کھیلتے ہیں روشنی سے نہیں۔ سوگ کی شدت کو سیاہ رنگ کی شدت سے ظاہر کرنے کا یہ ہنر ان تصاویر میں واضح ہے۔

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ سوئم

ڈاکٹر عرفان شہزاد: اسلام جب تک دعوت کا دین رہا، اس نے دین میں داخل ہونے والوں پر کسی مخصوص حلیہ اختیار کرنے کی پابندی لگا کر انہیں اپنے ماحول اور معاشرے سے اجنبی نہیں بنایا، حلیہ کے اعتبار سے عرب کے مشرکین ،یہود، نصاری اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوا کرتا تھا، بلکہ عجمی اقوام کی ثقافتی اقدار کو عربوں نے بھی اپنایا۔

ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے