طبقات مسعودی از ڈاکٹر عبدالمجید عابد

طبقات مسعودی از ڈاکٹر عبدالمجید عابد
کچھ عرصہ قبل برادرم حسنین جمال نے مدیر ’ہم سب‘ کا خاکہ لکھا تو احباب کی جانب سے فرمائش آئی کہ اب ’خاکہ اڑایا جائے‘۔ خاکسار لڑکپن سے ’فکاہیہ نویسی‘ اور ’خاکہ اڑائی‘ جیسے فنون عالیہ کا طالب علم رہا ہے لہٰذا ’اب ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘۔ واضح رہے کہ فدوی کا صاحب مضمون سے بیک وقت دوستی، شاگردی اور ’معالجی‘ کا رشتہ ہے۔

گوجرانوالہ ان کا آبائی شہر ہے۔ شائد اسی لئے گوجرانوالہ اور اس کے باسیوں کے متعلق ایک خاص غبار دل میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ کہتے ہیں:’اس شہر کی جانب سے تو کبھی ہمیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نصیب نہیں ہوا‘ اور یہ کہ ’ہر برائی آخر وہیں جا کے نکلتی ہے‘۔ عمر کے اس حصے میں مائل بہ فربہی ہیں البتہ موقعے کی مناسبت سے مستعد اور چست بھی ہو سکتے ہیں۔ وضع قطع خالصتاً دہلوی ہے، سفید کرتا پاجامہ زیب تن کئے صبح شام ’ہم سب‘ کی ادارت میں مشغول رہتے ہیں۔ ملاقات میں خوش اخلاق اور ہنس مکھ ہیں(یعنی اپنی تصاویر کے برعکس)۔

فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔
فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ اجمل کمال کو ان کے آشیانے پر جانے کا اتفاق ہوا تو آدھے ہی راستے میں پکار اٹھے: ’بھئی کیا فیصل آباد قریب ہی ہے؟‘اگر آپ ان سے ملنے کے مشتاق ہیں تو براہ کرم ان سے راستہ مت پوچھ بیٹھئے گا۔ و ہ قوم کو راستہ دکھانے والوں میں سے ہیں لیکن اپنے گھر کی بجائے آپ کو وہ کاہنا کاچھا پہنچا دیں گے۔

صاحبان یقین کیجئے کہ خاکسار نے زندگی میں بہت سے کٹھن مراحل دیکھے ہیں اور کثیر النوع امتحانات کا سامنا کیا ہے لیکن استاد محترم کو ساتھ بٹھا کے گاڑی چلانا شائد ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔میں شیر خان کے لئے تمغہ استقامت کی سفارش کرنا چاہتا ہوں جو کئی سال سے یہ ذمہ داری نبھا رہا (اور طعن و تشنیع سہہ رہا) ہے۔ ادھر گاڑی کی رفتار بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے متجاوز نہیں ہوئی کہ پاکستانی عوام اور سڑک کے پیچیدہ رشتے پر ایک پرمغز تقریر کا آغاز ہوتا ہے جو متنوع القابات اور غیر پارلیمانی الفاظ سے مزین ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو دیکھتے ہی ان پر قر یب قریب تشنج کی کیفیت طاری ہو نے لگتی ہے۔ ان کے کئی مضامین میں موٹر سائیکل ایک پہئے پر چلانے کو نوجوان نسل کی غیر سیاسی سوچ کا استعارہ قرار دیا جا چکا ہے۔

گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے اور تین چوتھائی دنیا دیکھ لی لیکن باقر خانی اب بھی چائے میں ڈبو کر کھانا پسند کرتے ہیں۔ عوام میں گھلنے ملنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات سے انہیں خاص کد ہے، فدوی نے کم ازکم ایک دفعہ انہیں ایک مشترکہ دوست کے ولیمے سے برق رفتاری کے ساتھ غائب ہوتے دیکھ رکھا ہے۔ لاہور میں کچھ برس سے Organic Food کا اتوار بازار لگتا ہے۔ دختر نیک اختر کی فرمائش پر وہاں کا ایک چکر لگا آئے تو کئی روز طبیعت مضمحل رہی۔ دن اور رات کے اوقات ان کے لئے بے معنی ہیں۔ ایک مشترکہ دوست کے مطابق ان کے ہاں شام کی چائے اس وقت پی جاتی ہے جب گرد ونواح کے رہائشی عشائیے سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی ٹی وی پروڈیوسر نے دریافت کیا کہ آیا وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے پروگرام میں شرکت کر سکیں گے؟ جواب ملا: میاں، اگر صور اسرافیل آٹھ بجے پھونکا جائے تو ہی کچھ امکان بن سکتا ہے وگرنہ ہمیں معاف کیجئے۔

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔
اپنی صحت کے معاملے میں حد درجہ لاپرواہ ہیں۔ خاکسار کو کئی دفعہ طعنہ مل چکا ہے کہ ’آپ نے آخر اتنی صحت کا کیا کرنا ہے؟‘۔ عمرِ رفتہ اور کثرت سگرٹ نوشی کے باعث دانت جواب دے گئے تو دندان سازوں سے پالا پڑا۔ مصیبت یہ ہے کہ موصوف دندان سازوں کے زیر علاج رہنے کو ایک نہایت بورژوا قسم کی حرکت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے گوجرانوالہ سے تعلق ہونے کے باوجود گوشت خوری ترک کر دی (اور سبزی خور ہو گئے) لیکن علاج سے کئی کوس دور بھاگتے رہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق (احمد مشتاق سے معذرت کے ساتھ) اس معرکے میں عشق بیچارہ ہار گیا اور استاد محترم کو نئی بتیسی نصیب ہوئی۔

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔ سوویت روس کی تاریخ کے مختلف پہلووں پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے لئے اڑچن یہ ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے احباب انہیں حسبِ ذائقہ ایجنٹ، غدار، ڈالر خور اور ملک دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن مرشد پاک ان دیومالائی ڈالروں اور ’لفافوں‘کے انتظار میں بوڑھے ہو چلے ہیں۔ چاند پینٹ کرنے کی خواہش لئے بلوچ سرمچاروں سے بھڑ گئے تھے، اب فرماتے ہیں:’جب تم لوگوں نے بلوچستان آزاد کرا لیا تو بے شک مجھے وہاں کا ویزہ نہ دینا‘۔ عصر حاضر کے ’سرخوں‘ سے نالاں ہیں اور کہتے ہیں: ’جن ممالک میں یہ نظام نافذ رہا ہے، وہاں سے کبھی کمیونزم کے احیاء کی صدا بلند نہیں ہوئی، ہمارے انوکھے لاڈلوں کو یہ بات کون سمجھائے؟‘

اس نوع کے بزرگ (ان کو یہ لقب بالمشافہ ملاقات میں عطا کرنے کا حوصلہ ہم میں فی الحال موجود نہیں) کارنس پر سجانے کے لائق ہیں۔ کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔ مختلف مسائل کے ’منطقی انجام‘ سے وہ خوب باخبر ہیں۔ ’قرائن‘ سے بہت کچھ معلوم کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ جمہوریت کے ایسے قصیدہ گو کہ گویا گوجرانوالہ کی جگہ قدیم ایتھنز میں پیدا ہوئے ہوں۔ بقول محمد خالد اختر ’نثر اردو کو لباس تکلف اور زیور سخن آراستہ کر کے روکش ماہ تمام‘ بنانا اور ’الفاظ کے روپ کو غازے کی تابانی دے کر شاہد نگارش کی سنہری رو پہلی پیرہن‘ پہنانا مرشد کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ناقدین کے خیال میں عبدالمجید سالک کی اتباع کرتے ہیں لیکن الفاظ غالب کے زمانے کے استعمال کرتے ہیں۔ان کا کالم پڑھنے کے لئے فرہنگِ آصفیہ اور پاکستان انسائکلوپیڈیا ساتھ رکھنا پڑتا ہے جب کہ سمجھنے کے لئے کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ فارسی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے جن کی اکثریت راقم جیسے کم علموں کے پلے نہیں پڑتی۔ متنازع موضوعات پر لکھنے کے متعلق ان کا ایک قولِ زریں ہے :’لڑکی سے پہلے لڑکی کی ماں کو منانا پڑتا ہے‘ اور خاکسار کو ’سخت زبان‘ استعمال کرنے پر کئی مرتبہ ڈانٹ پڑ چکی ہے۔گزشتہ برس صدارتی ایوارڈ ملنے کا اعلان ہوا تو ان کے ایک دوست نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔ ’ہم بھی وہیں موجو د تھے‘ البتہ رات چودھویں کی نہیں تھی۔ ان کے یارِ غار، یاسر پیرزادہ نے انہیں پاکستانی تاریخ کا ’ڈاکٹر ذاکر نائیک‘ قرار دیا جو خاکسار کے نزدیک بالکل درست لقب ہے۔ تعریف سننے پر ان کی جھینپ اور شرماہٹ کا وہ عالم تھا جو پہلے روز کی دلہنوں کا سٹیج پر بیٹھتے وقت ہوتا ہے۔

کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔
کتب بینی بلکہ کتب خوری ان کا مشغلہ ہے۔ ان جیسے وسیع المطالعہ اور معلومات عامہ کا خزینہ لوگ تو اب نسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتے۔ اپنی کتابیں ادھار دینے کے معاملے میں بخیل واقع ہوئے ہیں۔ اس بخل میں ہم ان کو دوش نہیں دے سکتے کہ کئی احباب مختلف مواقع پر ان کی کتب، مالِ مسروقہ سمجھ کر ضبط کر چکے ہیں۔ حافظہ کمال کا پایا ہے۔ غالب، اقبال اور فیض کے اتنے اشعار ازبر ہیں کہ شاید ان بزرگوں کو خود بھی نہ یاد ہوں۔ اپنے کالموں میں وہ موزوں اشعار یا مصرعے بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔ کتابوں سے اقتباس لفظ بہ لفظ دہرا تے ہیں۔ راقم کئی سالوں سے ان کے حوالے اور اقتباسات کی تحقیق کر تا رہا ہے اور کئی نایاب کتب میں ان سے سنے اقتباس ڈھونڈ چکا ہے۔ ان سے اب تک جو بھی کتاب مستعار لی، بروقت لوٹا دی لیکن کچھ کتب کے معاملے میں وہ بہت جلد جذباتی ہو جاتے ہیں(ان کتب کی فہرست ’ہم سب‘ پر ’نوجوان لکھاریوں کو کیا پڑھنا چاہئے‘ کے عنوان سے موجود ہے)۔

کرکٹ سے خاص دلچسپی ہے اور ’ہم سب‘ کی ادارت کا بوجھ اضافی ہونے لگے تو شڑاپ سے کرک انفو کھول کر حسب موقعہ میچ کی صورت حال سے باخبر رہتے ہیں۔ با غبانی سے بے تحاشا رغبت ہے۔ قیاس ہے کہ گزشتہ جنم میں بہت سا وقت گل وگلستاں کے ہمراہ گزار چکے ہیں۔ موسیقی کے رسیا ہیں اور سینکڑوں قدیم البم اور گانے ان کے پاس موجود ہیں البتہ وہ ہمیشہ تخلیے کے عالم میں موسیقی سننا پسند کرتے ہیں۔ خادم کو ان کے ہاں استاد بسم اللہ خان اور بڑے غلام علی خان کی آواز سننے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ زبانیں وہ بہت سی جانتے ہیں۔ پڑھنے میں انگریزی، لکھنے میں اردو اور بولنے میں پنجابی کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان کا صحافتی کیریر انگریزی روزنامے سے شروع ہوا اور ایک زمانے میں وہ فرضی نام سے فکاہیہ کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ پنجابی میں ان کی شاعری کی کتاب ’والٹن کیمپ نئیں مکیا‘ اب نایاب ہو چکی ہے۔ ایک دفعہ ہاتھ لگی اور ان سے ’کلامِ شاعر بذبان شاعر‘ کی فرمائش کی جس کو پہلے پہل وہ ٹالتے رہے لیکن ہماری ثابت قدمی کے باعث چند نظمیں سنا دیں۔ نظم سناتے وقت بھی شرماہٹ کا عالم دیدنی تھا۔ پنجابی مصنفین نے انہیں ’اصلی تے سُچا‘ پنجابی لکھاری نہیں مانا اوروہ بذات خود اپنی پنجابی شناخت سے نالاں رہتے ہیں۔ فلم بینی میں دلچسپی لیتے ہیں اور دنیا بھر کی فلمیں ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کے بچوں کے اصلی یا عرفی نام فلم سے متعلقہ اشخاص سے موخوذ ہیں۔
در ویش اتنے ملنسار ہیں کہ ہر طبقہء فکرسے تعلق رکھنے والے ان کے قدر دانوں میں شامل ہیں۔ ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔ گزشتہ تین سالوں میں خاکسار ان کے گھر میں ادباء، شعراء، سرکاری افسران، اساتذہ، سیاست دانوں، نگری نگری بھٹکتے مسافروں اور مختلف النوع کرداروں سے ملاقات کر چکا ہے۔ ان کی جولانی طبیعت کے باعث گھر بار کی ذمہ داری تنویر جہاں صاحبہ کے پاس ہے جو اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود یہ بار گراں اٹھانے پر راضی ہیں۔ ان کی شخصیت مرشد کی موجودگی میں ایک Stabilising Force یا یوں کہئے کہ Shock-Absorber کی سی ہے۔ان کی عدم موجودگی میں’ سلیقہ نام تھا جس کا، گیا مسعود کے گھر سے‘، کا سماں ہوتا ہے۔ تنویر جہاں کی شخصیت اس قابل ہے کہ ان کے فضائل پر ایک الگ، خصوصی مضمون رقم کیا جائے۔

ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔
ان کے پاس کچھ عرصہ قبل دو موبائل فون تھے اور اکثر یہ عالم ہوتا کہ مرشد ایک صاحب کے اقوالِ زریں سے استفادہ کر رہے ہیں کہ کسی دوسرے بھائی کی کال آگئی جو اپنی سنانے پر مصر ہیں۔ اس ہنگامی حالت میں اگر کوئی ان کے پاس بیٹھا ہے تو اس بیچارے کو لائن مصروف رکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ پانچ برس قبل خاکسار نے ان کانمبر حاصل کیا اور جھجکتے جھجکتے کال ملائی۔ اس سے پہلے ان سے ایک ملاقات کا اتفاق ہوا تھا اور اس دوران تعارف کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔ بہرحال خلاف توقع انہوں نے کال سنی اور دعوت دی کہ آپ اس نمبر پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اب تو خیر ان کو وہ فراغت میسر نہیں وگرنہ ان کی آواز میں حالات حاضرہ پر کراکرا تبصرہ سننے کا اپنا مزہ ہے۔ آج کل وہ ’ہم سب‘ میں اتنے مگن ہیں کہ دو کی جگہ ایک فون سننا بھی اذیت سمجھتے ہیں۔

احباب کے خیال میں ٹی وی پر جاری مسلسل طوفان بدتمیزی اور دائیں بازو کی واضح برتری کے باعث مرشد اور ان جیسے افراد کو ٹی وی پر نظر آنا چاہئے۔ نظریاتی سطح پر یہ بات شاید درست ہے لیکن عملی سطح پر کچھ مشکل درپیش ہے۔ جب آپ بات کے دوران ’میں آپ سے عرض کروں‘ اور ’معاف کیجئے گا‘ بطور ٹیپ کا مصرعہ استعمال کرتے ہوں تو چنگھاڑتے ہوئے اینکروں اور دھینگا مشتی کے شوقین پروڈیوسروں کو آپ سے شغف کیوں ہونے لگا؟ ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو پبلک سپیکنگ سے اجتناب ہے۔ اگر کسی جگہ مجبوری کے طور پر ’خطاب‘ کرنا پڑے تو پہلے ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں اور وقت آنے پر وہ مختصر الفاظ میں اپنی بات کہہ کر سٹیج سے فرار ہو جاتے ہیں۔

کسی بات سے اختلاف ہو تو جھگڑا نہیں کرتے، تحمل سے اپنی بات واضح کرتے ہیں اور ایک حد تک تنقید سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں (اس نکتے پر سرخے بھائی اور خان زمان کاکڑ معترض ہو سکتے ہیں،جو ان کا پیدائشی حق ہے)۔

ان کی وسیع و عریض شخصیت کو خاکے کے کوزے میں سمونا ناانصافی ہے۔ ہم لیکن اتنی ہی استطاعت رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی چھتر چایا تلے ہمیں علم کی مزید گتھیاں سلجھانے کا موقع نصیب ہوتا رہے۔

Art work: Asad Fatemi

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abdul Majeed Abid

Abdul Majeed Abid

Dr. Abdul Majeed is a medical doctor and a teacher by profession. He has a keen interest in History.


Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.