وقت کا نوحہ

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
نظام سقّہ پیاس کی اوک کے سامنے
سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے

زمانہ پیاس کے نوحے پر
ماتمی دف بجا رہا ہے
ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی
بھوکوں کو امن کے حروف سے بھری
پلیٹ دے رہی ہے
یو این او کی آنکھ کے کناروں کی جنبشوں سے دنیا
کپکپا رہی ہے

ماں؟؟؟
مامتا کو ہنسی آ رہی ہے
دودھ کی جگہ چھاتیوں میں
نظریے اور فلسفے گھولے جا رہے ہیں
وقت کی ڈور پر جھولتے بچوں سے
جھولنے کے اوقات چھینے جا رہے ہیں
بارود، بم، میزائل اور دھماکے
دھرتی کی کوکھ میں دھکیلے جا رہے ہیں

Image: Banksy


Related Articles

روتا ہوا بکرا

شارق کیفی: وہی بکرا
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں

مسلسل موت

جہاں آراء تبسم: میں پہلی بار جھولے میں مری تھی
جب میرے بابا نے مجھ کو دکھ سے دیکھا تھا

ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں