یکم اپریل 1954ء

یکم اپریل 1954ء

آج کے دن
ماں نے ایک نظم کو جنم دیا
چوہے جتنی
چھوٹی سی نظم
جسے ایک جار میں بند کیا جا سکتا تھا
سب ہنستے تھے
اور کہتے تھے
نظم زندہ نہیں بچے گی

ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی
خدا کائنات کے آخری گوشے سے
شٹالے اور سرسوں کے پھول دیکھنے
ایک چھوٹے سے گاؤں میں آ جاتا

نظم بڑی ہوتے ہوتے
پورے چھ فٹ کا آدمی بن گئی!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!

اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

زوالِ عمر

تبسم کاشمیری:نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں