یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

وہ گول مٹول ہے
سانولا سا ہے
نقوش پیارے ہیں
تین سال کا ہے
بڑی بڑی آنکھوں سے
بغیر خوف کھائے
مجھے دیکھتا ہے
ندیدہ بھی نہیں
میری دی ہوئی
کھانے کی چیزیں
آدھی کھاتا ہے
اس کے کپڑے بھی
صاف ستھرے ہیں
جوتے بھی ٹھیک ہیں
پر اعتماد ہے
جیسے کہ اسے
بہت پیار ملا ہے
صوفے پر ٹیک لگائے
ایسے بیٹھا ہے
جیسے کہ ایسے صوفوں پر
روز بیٹھتا ہو

بہت دنوں سے
میں نے کسی بچے کو
گود میں نہیں اٹھایا
اک شدید خواہش
میرے اندر اٹھتی ہے
اسے گود میں لے کر
بے تحاشہ پیار کرنے کی

لیکن میں خود کو روک لیتی ہوں
ایسا نہیں ہے
کہ وہ ایسا کرنے سے
گھبرا کر رونے لگے گا
بلکہ ایسا ہے
کہ ایک نوکرانی کے بچے کو
گود میں لے کربے تحاشہ پیار کرنا
نامناسب ہے

Tanveer Anjum

Tanveer Anjum

تنویرانجم اُردو نثری نظم کا نمایاں نام ہیں۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ تنویر انجم نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا اور شعبہٗ تدریس سے وابستہ ہیں۔


Related Articles

طرز

ہر پہلو ہےسفینہ سخن کا زخمی
جیسے لفظ
انگِنت سیپیاں
تراشے ہوے بیاں سے

سر کٹے

انہوں نے ہمیں منڈیروں پر بٹھا دیا ہے
تاکہ
جب ہوا تیزچلے تو ہم دوسری طرف بنی کھائی میں گر پڑیں
کبھی نہ اٹھنے کے لئے

جنگ جُو کرد عورتوں کا گیت

نصیر احمد ناصر: ہم صدائے کوہ ہیں
دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے
ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*