یوم محبت اور باسی پھول (وجیہہ وارثی)

یوم محبت اور باسی پھول (وجیہہ وارثی)

یوم محبت
رفیق حیات کے ساتھ شریک سفر
اشارے کی رنگین بتی کے نیچے
سرخ لباس میں ملبوس
جوان فقیرنی
ہاتھ میں پھول
گود میں دو برس کابچہ
پیٹ میں چھ ماہ کی بچی لٸے
کھڑی تھی
دیکھٸے جی
اسے بھی کوٸی پھول دے گیا
آپ نے مجھے نہیں دیا
دیکھو
اسے محبت نے فقیرنی بنا دیا
اور تمہیں
مہارانی
اب تم فیصلہ کرو
تمہیں تاج چاہٸے
یا
باسی پھول

Wajih Warsi

Wajih Warsi

Wajih Warsi is a theater activist. He has been performing on stage with various theater groups since 1988. He founded Bang, Sevak and Nao Theater Workshop. He is a TV playwright and poet.


Related Articles

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے

ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں

بس بہت جی لیے

شارق کیفی: حاضری کے بغیر
اس زمیں سے مرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا
کہ میں اک فرشتہ تھا
اور اس جہاں میں غلط آ گیا تھا