آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم
ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم

یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھتے رہنا یہی ہوتا رہا تو مر جائیں گے ہم

صاحبو کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات
عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر جائیں گے ہم

کوئے بربادی سے آگے دھیان کے سو موڑ ہیں
ہم بھی کہتے تھے کہ لوٹیں گے تو گھر جائیں گے ہم

شاخ سے وابستگی کب تک کہ در پہ ہے صبا
ایک پل لرزیں گے ٹوٹیں گے بکھر جائیں گے ہم


Related Articles

آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے غُربت میں تیری یاد

آج کا گیت: آج تجھے کیوں چُپ سی لگی ہے (ناصر کاظمی، اسد امانت علی خان)

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے آج تو جیسے ساری دنیا ہم

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*